سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو ہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصاف ریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھی کہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو جو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیں سپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں کیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرا برحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری انکھیاں کچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں کشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہد جنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں اس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلنا کچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں اس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھے تجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں سوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کا دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے تمہیں تمہارے ہی نیم خوابوں نے گر جگایا تو کیا کرو گے پلک پلک سے چھلک رہی ہے مری اُداسی لہو کی صورت مگر اداسی کی بارشوں نے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے ہوائے ظلم و ستم نے میرا یہ خستہ گھر تو گرا دیا ہے انہی ہواؤں نے گر تمہارا دیا بجھایا تو کیا کرو گے فراقِ وحشت سے تنگ ہو کر پلٹ بھی آؤ اے میرے ہمدم دیارِ الفت میں چلتے چلتے مجھے نہ پایا تو کیا کرو گے ہماری حالت پہ مسکرا کر تَو چل دیے ہو مگر اے جاناں کوئی تمہاری جو بے بسی پر یوں مسکرایا تو کیا کرو گے قفس پہ چلمن رکھی ہوئی ہے ذہن میں الجھن پڑی ہوئی ہے مگر پرندوں کو جب جنوں نے رہا کرایا تو کیا کرو گے چلو یہ مانا کہ مَیں بھی تیرا اسیرِ زلفِ بلا ہُوں لیکن کبھی جو قدرت نے میرا دامن اگر چُھڑایا تَو کیا کرو گے مجھے تَو ساگر نکال پھینکا ہے زندگی کی حقیقتوں سے تمہیں بھی لمحوں کی تیز رَو نے اگر بہایا تو کیا کرو گے ساگر ملک